غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات، اسرائیلی فوج پر ریپ اور تشدد کا دعویٰ
غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات، اسرائیلی حراست پر عالمی غصہ
غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے کارکنوں کی اسرائیلی حراست کے بعد سامنے آنے والے الزامات نے دنیا بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ مختلف ممالک کے شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلوکی، مار پیٹ اور جنسی تشدد کیا۔ ان الزامات کے بعد سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات کی بحث تیزی سے پھیل گئی ہے۔
اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے فلوٹیلا کو روک کر متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں تمام غیر ملکی کارکنوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا، تاہم رہائی کے بعد کئی افراد نے حراست کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سنگین دعوے کیے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، لیکن کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کارکنوں کے سنگین الزامات
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ زیرِ حراست کارکنوں کے ساتھ نہ صرف مار پیٹ کی گئی بلکہ کم از کم 15 افراد کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
منتظمین کے مطابق کئی کارکنوں کو قریب سے ربڑ کی گولیاں ماری گئیں جبکہ متعدد افراد کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔ ان دعوؤں نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات کی خبریں مسلسل عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
فرانسیسی کارکن میریم حدجال نے پیرس پہنچنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ساتھ جسمانی اور جنسی بدسلوکی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ انھیں تھپڑ مارے گئے، نامناسب انداز میں چھوا گیا، بال کھینچے گئے اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ کئی گھنٹوں تک شدید ذہنی صدمے میں رہیں۔
یہ الزامات سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔
اسرائیل کی تردید
دوسری جانب اسرائیلی جیل سروس اور فوج نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فلوٹیلا کے تمام شرکا کے ساتھ “قانون اور فوجی ضابطوں کے مطابق احترام سے پیش آیا گیا” اور کسی قسم کی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی جیل سروس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ تمام قیدیوں کو مکمل قانونی حقوق دیے گئے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی گئی۔
تاہم ان وضاحتوں کے باوجود غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات عالمی سطح پر شدید بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔
کینیڈا، جرمنی اور سپین کا ردعمل
کینیڈا نے تصدیق کی ہے کہ اسے اپنے شہریوں کے ساتھ ہونے والی “ناقابل قبول بدسلوکی” کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسی طرح جرمنی اور سپین نے بھی کہا کہ ان کے بعض شہری زخمی حالت میں واپس پہنچے ہیں۔ یورپی ممالک اب اس پورے واقعے پر تفصیلی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ کئی حلقے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور ہو گی۔
اسی وجہ سے غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات کی خبریں دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
سعد ایدھی کی واپسی
پاکستانی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے عہدیدار سعد ایدھی بھی فلوٹیلا میں شامل تھے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ سعد ایدھی سمیت دیگر کارکن محفوظ طریقے سے ترکی پہنچ گئے ہیں۔
سعد ایدھی نے ترکی پہنچنے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ انھیں چار دن تک اسرائیلی حراست میں رکھا گیا اور دورانِ حراست تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ وہ مسلسل جسمانی دباؤ اور سخت رویے کا شکار رہے۔
ان دعوؤں کے بعد پاکستان میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور سوشل میڈیا پر غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات کا معاملہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
فلوٹیلا کا مقصد کیا تھا؟
گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد ممالک کے 430 سے زیادہ کارکن شامل تھے۔ ان کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔
یہ امدادی قافلہ ترکی سے روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد غزہ تک امداد پہنچانا اور اسرائیلی بحری ناکہ بندی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
منتظمین کے مطابق یہ ایک پرامن انسانی مشن تھا، جبکہ اسرائیل نے اسے “حماس کے حق میں تشہیری مہم” قرار دیا۔
غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات، اسرائیلی فوج پر ریپ اور تشدد کا دعویٰ اس تنازع کے بعد غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات عالمی سفارتی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے کشتیوں کو روک لیا۔
انھوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی کمانڈوز نے بعض کشتیوں پر فائرنگ کی، واٹر کینن استعمال کیے اور ایک کشتی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری۔
اسرائیل نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حقیقی گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا اور کارروائی مکمل طور پر قانونی تھی۔
تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کی کارروائی کئی قانونی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
عالمی سطح پر مذمت
پاکستان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کارکنوں کے ساتھ مبینہ سلوک پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی ایک ویڈیو بھی شدید تنقید کی زد میں آئی، جس میں وہ زیرِ حراست کارکنوں پر طنز کرتے دکھائی دیے۔
غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات، اسرائیلی فوج پر ریپ اور تشدد کا دعویٰ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی اس رویے کو “اسرائیلی اقدار کے خلاف” قرار دیا۔
اس پورے واقعے نے نہ صرف اسرائیل پر تنقید بڑھا دی بلکہ غزہ کی صورتحال پر عالمی توجہ بھی دوبارہ مرکوز کر دی۔
انسانی حقوق کے سوالات
انسانی حقوق کی تنظیمیں اب مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس پورے واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
اگرچہ بی بی سی سمیت کئی ادارے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے، لیکن مختلف ممالک کے شہریوں کی یکساں شکایات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
اسی دوران غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات کی خبریں مسلسل عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
نتیجہ
غزہ فلوٹیلا کا واقعہ اب صرف ایک بحری ناکہ بندی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور سفارتی تعلقات کا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
کارکنوں کے الزامات اور اسرائیل کی تردید کے درمیان حقیقت کیا ہے، یہ شاید آزاد تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔
تاہم ایک بات واضح ہے کہ غزہ فلوٹیلا میں 3 ہولناک الزامات نے دنیا بھر میں غم و غصے کی نئی لہر پیدا کر دی ہے،