You are currently viewing وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی

وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی

  • Post author:
  • Post category:Urdu
  • Post comments:0 Comments

وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی

اسلام آباد میں بڑی پیش رفت: وزارتِ خارجہ میں کرپشن اور جعلی تصدیقی نیٹ ورک پر ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے وفاقی دار الحکومت میں ایک وسیع نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے। ادارے نے متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپے مار کر جعلی اپوسٹل (Apostille) سٹیکرز، سرکاری مہروں اور جعلی اسناد کی تیاری، ترسیل اور غیر قانونی استعمال میں ملوث 16 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، وزارتِ خارجہ میں کرپشن کی سہولت کاری کرنے والے 6 سینئر و جونیئر عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ کارروائی اسلام آباد کے معروف تجارتی علاقے آبپارہ میں واقع ایف اینڈ ایف پلازہ کے بیسمنٹ میں کی گئی۔ ایف آئی اے کو موصول ہونے والی معتبر اطلاعات پر جب اینٹی کرپشن سرکل کے انسپکٹر ارسلان مسعود خان کی سربراہی میں ٹیم نے چھاپہ مارا، تو وہاں سے بھاری مقدار میں جعلی مہریں، سٹیکرز اور غیر قانونی دستاویزات برآمد ہوئیں۔
┌─────────────────────────────────────────────────────────────┐
│                 ایف آئی اے کارروائی کے اہم نکات             │
├───────────────────────┬─────────────────────────────────────┤
│ کارروائی کا مقام     │ ایف اینڈ ایف پلازہ، آبپارہ (اسلام آباد) │
├───────────────────────┼─────────────────────────────────────┤
│ گرفتار نجی افراد      │ 16 افراد (کوریئر و کنسلٹنسی مالکان)  │
├───────────────────────┼─────────────────────────────────────┤
│ نامزد سرکاری ملازمین  │ دفترِ خارجہ کے 6 عہدیدار           │
├───────────────────────┼─────────────────────────────────────┤
│ کل نامزد ملزمان      │ 22 افراد                           │
└───────────────────────┴─────────────────────────────────────┘

جعل سازی اور بھاری رشوت کا طریقہ کار

ایف آئی اے کے ترجمان اور تفتیشی حکام کے مطابق، وزارتِ خارجہ میں کرپشن کا یہ پورا نظام انتہائی منظم انداز میں چلایا جا رہا تھا۔ مختلف کنسلٹنسی اور کوریئر ایجنسیاں شہریوں سے دستاویزات کی فوری تصدیق اور اپوسٹل سٹیکرز لگوانے کے نام پر بھاری رقم بٹورتی تھیں۔
اس وصول کی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ وزارتِ خارجہ کے اندر موجود اُن اہلکاروں تک بطور رشوت پہنچایا جاتا تھا جو اس غیر قانونی سرگرمی کو چھپانے اور کارروائی آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتے تھے۔
  [ عام شہری / درخواست گزار ]
               │
               ├──► (غیر رسمی اور بھاری ادائیگی)
               │
               ▼
 ┌─────────────────────────────────────────────────────────┐
 │ نجی کنسلٹنسی اور کوریئر ایجنسیاں (آبپارہ دفاتر)          │
 └─────────────────────────────────────────────────────────┘
               │
               ├──► (جعلی اپوسٹل سٹیکرز + رشوت کی تقسیم)
               │
               ▼
 ┌─────────────────────────────────────────────────────────┐
 │ وزارتِ خارجہ کے سہولت کار افسران (تفتیش کے تحت)         │
 └─────────────────────────────────────────────────────────┘

ملوث نجی ادارے اور وزارت کے افسران

ایف آئی اے کے مطابق جن نجی اداروں کے مالکان اور ملازمین کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
  • سوفی کنسلٹنٹس (Sofi Consultants)
  • ایکسیلنٹ کورئیر سروس (ECS)
  • لیپرڈ کورئیر سروسز (ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ برانچ)
  • آر اے اے کے (RAAK) کنسلٹنسی
  • نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ
  • جی ایم کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس
دوسری جانب، وزارتِ خارجہ میں کرپشن کے تار براہِ راست انچارج اپوسٹل اور اٹیسٹیشن شعبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سے ملتے ہیں۔ ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ سرکاری افسران نجی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جعلی اپوسٹل سٹیکرز کو قانونی شکل دینے میں ملوث رہے ہیں۔
┌─────────────────────────────────────────────────────────────────┐
│              ملوث اداروں اور عہدیداروں کا خلاصہ                   │
├───────────────────────────────────┬─────────────────────────────┤
│ نجی ایجنسیاں                      │ 7 معروف کوریئر و کنسلٹنٹ     │
├───────────────────────────────────┼─────────────────────────────┤
│ سرکاری عہدے                       │ انچارج اپوسٹل، اے ڈی اٹیسٹیشن│
├───────────────────────────────────┼─────────────────────────────┤
│ عائد دفعات                        │ دھوکہ دہی، جعل سازی، اینٹی کرپشن│
└───────────────────────────────────┴─────────────────────────────┘

قومی خزانے کو نقصان اور عدالت سے جسمانی ریمانڈ

ایف آئی اے حکام کے مطابق، جعلی اپوسٹل سٹیکرز اور جعل سازی کی وجہ سے نہ صرف بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی دستاویزات کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھے ہیں، بلکہ اس سے قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ وزارتِ خارجہ میں کرپشن سے جڑے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات بشمول دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات بنانے اور اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
گرفتار ہونے والے 16 ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے فاضل جج نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ مقدمے کی باضابطہ تفتیش انسپکٹر ارسلان مسعود خان انجام دے رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی
                                  ┌───────────────────────────┐
                                  │      عدالتی پیش رفت      │
                                  └─────────────┬─────────────┘
                                                │
                 ┌──────────────────────────────┴──────────────────────────────┐
                 ▼                                                             ▼
┌─────────────────────────────────┐                           ┌─────────────────────────────────┐
│     3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور   │                           │    فرار سرکاری افسران کی تلاش    │
└─────────────────────────────────┘                           └─────────────────────────────────┘

12 ارب روپے کا مبینہ سکینڈل اور دفترِ خارجہ کا ردِعمل

اس چھاپے سے چند روز قبل ہی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں پھیلی تھیں کہ وزارتِ خارجہ کی ایک داخلی تحقیقات میں تصدیقِ اسناد کے شعبے میں غیر سرکاری ذرائع سے 12 ارب روپے سے زائد کی غیر قانونی وصولیوں کا انکشاف ہوا تھا. وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی
تاہم، ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ان تمام خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا تھا। ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی داخلی بریفنگ یا 12 ارب روپے کے سکینڈل کی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے। ان کے مطابق وزارت کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور ترجمان نے وزارتِ خارجہ میں کرپشن سے متعلق تمام غیر مصدقہ دعودں کو بے بنیاد قرار دیا۔
ترجمان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ:
  1. دفترِ خارجہ میں روزانہ کی بنیاد پر 17,000 سے 18,000 دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے।
  2. گزشتہ مالی سال کے دوران اس تصدیقی عمل سے حکومت پاکستان کو 3.4 ارب روپے کی قانونی آمدن حاصل ہوئی।
  3. شہریوں کی شدید بھیڑ کی وجہ سے نظام پر بوجھ ضرور ہے اور اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے।
┌─────────────────────────────────────────────────────────────────┐
│                   وزارتِ خارجہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار   │
├─────────────────────────┬───────────────────────────────────────┤
│ روزانہ تصدیق شدہ اسناد │ 17,000 - 18,000  دستاویزات             │
├─────────────────────────┼───────────────────────────────────────┤
│ سالانہ سرکاری آمدن       │ 3.4 ارب روپے                         │
├─────────────────────────┼───────────────────────────────────────┤
│ وزارت کا موقف           │ نظام میں شفافیت اور اصلاحات جاری ہیں    │
└─────────────────────────┴───────────────────────────────────────┘

آئندہ کا لائحہ عمل اور اصلاحات

اگرچہ ترجمان نے تمام افواہوں کو رد کیا تھا، لیکن ایف آئی اے کے موجودہ چھاپے اور گرفتاریوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نجی ایجنٹ اور چند اندرونی عناصر مل کر اس نظام کا غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ وزارتِ خارجہ میں کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے سیکریٹری خارجہ نے قونصلر شعبے میں صاف ستھرا ریکارڈ رکھنے والے افسران کو تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایف آئی اے کے مطابق، فرار ہونے والے سرکاری افسران کی گرفتاری کے بعد وزارتِ خارجہ میں کرپشن کے اس منظم جال کے مزید اہم حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ وزارتِ خارجہ میں کرپشن 16 ملزمان گرفتار، بڑی کارروائی

Leave a Reply