You are currently viewing کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟
کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟

کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟

کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟

کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا خطہ ایک نئی اور ہولناک جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟

جنوبی ایشیا کی سیاست میں حالیہ دنوں میں ایک ایسا زلزلہ آیا ہے جس نے کابل سے اسلام آباد تک کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جمعے کے روز پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندرونی علاقوں، بالخصوص دارالحکومت کابل اور افغان طالبان کے روحانی مرکز قندھار میں کی جانے والی کارروائی نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کے بعد اب یہ سوال ہر زبان پر ہے کہ کیا پاکستان اپنے دفاعی مقاصد حاصل کر پائے گا یا یہ کشیدگی کسی ایسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا؟

پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے تھے، لیکن افغانستان کی خود مختاری پر اس طرح کی ضرب نے سفارتی تعلقات کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ بہت دشوار نظر آتا ہے۔

کشیدگی کا پس منظر اور حملوں کی شدت

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپیں نئی بات نہیں ہیں، لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ماضی میں حملے صرف سرحدی علاقوں تک محدود رہتے تھے، مگر کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی کارروائیوں نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ کابل وہ شہر ہے جہاں افغانستان کی مرکزی حکومت بیٹھتی ہے، جبکہ قندھار وہ مقام ہے جہاں طالبان کی عسکری اور نظریاتی قیادت کا قیام ہے۔

کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟
کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے: کیا ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی؟

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ بیان کہ “ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد اب اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ “اب ہماری اور آپ کی کھلی جنگ ہے” اس خطرے کی گھنٹی ہے جسے عالمی برادری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

کیا یہ حملے اہداف حاصل کر سکیں گے؟

پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو افغانستان میں پناہ ملی ہوئی ہے، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کے ذریعے پاکستان نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب صرف سرحدی دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطرے کے منبع تک پہنچے گا۔

تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کی کارروائیوں سے الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ پاک افغان تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی دباؤ افغانوں کو متحد کر دیتا ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت کے اندر بھی اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جب بات ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کی آتی ہے تو وہاں کی عوام اور قیادت ایک پیج پر آ جاتے ہیں۔ اسی لیے کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کے فوری بعد افغان طالبان نے پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

سفارت کاری کی ناکامی اور ثالثی کی کوششیں

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کئی بار مذاکرات کے ادوار ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے اپنی تشویش افغان حکام تک پہنچائی، مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ مائیکل کوگلمین جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سفارت کاری اب اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔

ایران نے اس معاملے میں ثالثی کی پیشکش کی ہے، جو کہ ایک خوش آئند قدم ہو سکتا ہے۔ ایران کی علاقائی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے پڑوسی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی حامی رہی ہے۔ اگر تہران یا بیجنگ جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک مداخلت نہیں کرتے، تو خدشہ ہے کہ یہ مقامی کشیدگی ایک علاقائی جنگ میں بدل سکتی ہے۔

افغان قوم پرستی اور عوامی ردعمل

افغانوں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ اپنی زمین کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں نے افغانستان میں ایک نیا غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ڈاکٹر رشید احمد خان کے مطابق، طالبان حکومت کی اپنی عوام میں مقبولیت شاید اتنی نہ ہو، لیکن اس طرح کے حملے ان کے لیے عوامی حمایت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو وہ اپنی حکومت کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

کیا پاکستان نے اس پہلو پر غور کیا ہے؟ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی کارروائیاں شاید وقتی طور پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو سست کر دیں، لیکن اگر اس سے افغان عوام میں پاکستان مخالف جذبات جڑ پکڑ گئے، تو یہ طویل مدت میں پاکستان کے لیے زیادہ بڑا سکیورٹی رسک بن سکتا ہے۔

دہشت گردی کا ناسور اور تحریک طالبان پاکستان (TTP)

پاکستان کا سارا مقدمہ ٹی ٹی پی کے گرد گھومتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ لیکن کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ یہ ایک ایسا تعطل ہے جس کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کا مقصد کابل پر دباؤ بڑھانا تھا تاکہ وہ ٹی ٹی پی کو لگام ڈالیں، لیکن اب تک کے ردعمل سے لگتا ہے کہ کابل اس دباؤ میں آنے کے بجائے جارحانہ رخ اپنا رہا ہے۔

کیا ہولناک جنگ کا خطرہ حقیقی ہے؟

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کسی بھی بڑی جنگ کی اجازت نہیں دیتی، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر سمجھوتہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کے بعد صوابی، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں گرائے گئے ڈرونز اس بات کا الارم ہیں کہ اب یہ لڑائی صرف سرحد تک محدود نہیں رہی۔ اگر سرحد کے دونوں اطراف سے بڑے پیمانے پر نقل و حرکت شروع ہوئی، تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک نہیں بلکہ پورے خطے پر پڑیں گے۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملوں کے بعد اب گیند کابل کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ شدت پسندوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام اٹھاتے ہیں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، ورنہ پاکستان مزید سخت اقدامات کی طرف جا سکتا ہے۔

نتیجہ: امن کا راستہ اب بھی کھلا ہے؟

حالات جتنے بھی کشیدہ ہوں، امن کا راستہ ہمیشہ مکالمے سے ہی نکلتا ہے۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی حملے اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جب بات چیت ناکام ہوتی ہے تو ہتھیار بولتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی سکیورٹی کے حوالے سے جائز تحفظات ہیں، لیکن افغانستان کی خودمختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔

دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر پاکستان غیر مستحکم ہوتا ہے تو اس کا اثر افغانستان پر پڑے گا اور اگر افغانستان میں آگ لگتی ہے تو اس کے شعلے پاکستان تک پہنچیں گے۔ کابل و قندھار پر 2 تباہ کن فضائی کارروائیاں ایک ہنگامی علاج تو ہو سکتی ہیں، لیکن یہ مستقل حل نہیں ہیں۔ مستقل حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کو دور کریں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔

Leave a Reply