Table of Contents
Toggleخطرناک انکشافات: نیویارک یہودی مرکز حملہ سازش میں پاکستانی نوجوان کا اعتراف
نیویارک یہودی مرکز حملہ سازش: پاکستانی نوجوان کا اعتراف اور چونکا دینے والی تفصیلات
امریکہ میں دہشت گردی کی ایک ممکنہ بڑی سازش اس وقت ناکام بنا دی گئی جب ایک 21 سالہ پاکستانی شہری نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ نیویارک کے ایک اہم مذہبی مقام، یعنی نیویارک یہودی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
یہ واقعہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے کہ شدت پسندی کے خطرات اب بھی موجود ہیں، اور بروقت کارروائی ہی بڑے نقصان کو روک سکتی ہے۔
ملزم کون ہے؟
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ملزم کی شناخت محمد شاہزیب خان کے نام سے ہوئی ہے، جو “شاہزیب جدون” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ کینیڈا میں مقیم تھا اور وہیں سے اس نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق، اس کا اصل ہدف نیویارک یہودی مرکز تھا، جہاں وہ خودکار ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کرنا چاہتا تھا۔
کیسے شروع ہوئی یہ سازش؟
عدالتی دستاویزات کے مطابق، شاہزیب خان نے 2023 کے آخر میں سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیم داعش کی حمایت شروع کی۔ وہ نہ صرف پروپیگنڈا مواد شیئر کرتا تھا بلکہ دوسرے افراد سے بھی رابطے میں تھا۔
اسی دوران اس نے امریکہ میں حملے کی منصوبہ بندی شروع کی، جس کا مرکز نیویارک یہودی مرکز تھا۔
یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ جن لوگوں سے رابطے میں تھا، وہ دراصل امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار تھے۔
خفیہ آپریشن اور نگرانی
امریکی اداروں نے شاہزیب خان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے بات کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ایف بی آئی کے خفیہ اہلکار تھے۔
اس نے انہیں ہدایات دیں کہ وہ:
- اے آر طرز کی رائفلیں حاصل کریں
- گولہ بارود کا انتظام کریں
- حملے کے لیے مخصوص مقامات کی نشاندہی کریں
ان تمام منصوبوں کا مرکز بار بار نیویارک یہودی مرکز ہی بتایا گیا۔
حملے کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟
شاہزیب خان نے اپنے مبینہ ساتھیوں کو بتایا کہ وہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں موجود ایک اہم عبادت گاہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
اس نے کہا کہ نیویارک یہودی مرکز اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ وہاں یہودی برادری کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اس نے یہاں تک کہا کہ اگر کوئی بڑی تقریب نہ بھی ہو تو بھی وہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا، اور اس کے منصوبے کا مرکزی ہدف مسلسل نیویارک یہودی مرکز رہا۔
حملے کی تاریخ اور منصوبہ
حکام کے مطابق، شاہزیب خان نے 7 اکتوبر 2024 کی تاریخ منتخب کی۔ اس دن کو اس نے اس لیے چنا کیونکہ ایک سال پہلے اسی تاریخ کو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا حملہ ہوا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ اس دن نیویارک یہودی مرکز پر حملہ کر کے وہ عالمی سطح پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ اس کے منصوبے کی شدت اور خطرناک سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟
ستمبر 2024 میں شاہزیب خان نے ایک انسانی سمگلر کے ذریعے کینیڈا سے امریکہ داخل ہونے کی کوشش کی۔
وہ ٹورنٹو کے قریب سے روانہ ہوا اور سرحد کی طرف بڑھا، لیکن کینیڈا کے علاقے اورمزٹاؤن کے قریب، امریکہ سے تقریباً 12 میل پہلے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
یوں ایک ممکنہ بڑا حملہ، جو نیویارک یہودی مرکز کو نشانہ بنانے والا تھا، بروقت ناکام بنا دیا گیا۔
عدالتی کارروائی اور اعتراف جرم
8 اپریل 2026 کو شاہزیب خان نے امریکی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ اس کیس کی سماعت پال جی گارڈیفی کے سامنے ہوئی۔
اب اس کو 12 اگست 2026 کو سزا سنائی جائے گی۔
اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے، کیونکہ اس کا تعلق سرحد پار دہشت گردی سے ہے اور ہدف نیویارک یہودی مرکز تھا۔
امریکی حکام کا ردعمل
نیویارک کے جنوبی ضلع کے اٹارنی جے کلیٹن نے کہا:
“ایف بی آئی اور دیگر اداروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑی تباہی کو روک لیا۔”
اسی طرح ایف بی آئی کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے اہلکار کولٹ مارکوفسکی نے کہا:
“اب ملزم کو اپنے کیے کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔”
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ کارروائی نہ ہوتی تو نیویارک یہودی مرکز پر حملہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا۔
واقعے کی اہمیت
یہ واقعہ کئی اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے:
- سوشل میڈیا پر شدت پسندی کا پھیلاؤ
- عالمی سطح پر دہشت گردی کے خطرات
- خفیہ اداروں کی اہمیت
- بروقت کارروائی کی ضرورت
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیویارک یہودی مرکز جیسے مقامات ہمیشہ حساس رہتے ہیں اور ان کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔
حتمی بات
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ ایک نوجوان کا شدت پسندی کی طرف مائل ہونا اور پھر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کرنا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ مؤثر انٹیلیجنس اور بروقت کارروائی سے بڑے سانحات کو روکا جا سکتا ہے۔
اگر نیویارک یہودی مرکز پر یہ حملہ ہو جاتا، تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے تھے۔ خوش قسمتی سے، ایسا نہیں ہوا۔