جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز میں کینیڈا کو 7 اوورز میں چت کر دیا
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: جنوبی افریقہ کی کینیڈا کے خلاف شاندار فتح اور ریکارڈ ساز کارکردگی
کرکٹ کے میدان سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے اہم میچ میں جنوبی افریقہ نے کینیڈا کو عبرتناک شکست سے دوچار کر دیا۔ 2024 کے رنر اپ، جنوبی افریقہ نے ایونٹ میں اپنی مہم کا آغاز جس جارحانہ انداز میں کیا ہے، اس نے دیگر ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس میچ میں جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز اپنا کر ثابت کر دیا کہ وہ اس بار ٹرافی جیتنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔
کینیڈا کا ٹاس جیتنا اور جنوبی افریقہ کی بیٹنگ
احمد آباد کی پچ پر جب کینیڈا کے کپتان نے ٹاس جیتا تو انہوں نے پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ شروع میں تو درست معلوم ہو رہا تھا لیکن جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے جلد ہی کینیڈین باؤلرز کے اوسان خطا کر دیے۔ کوئنٹن ڈی کوک اور کپتان ایڈن مارکرم نے پہلی وکٹ کی شراکت میں صرف 6.5 اوورز میں 70 رنز جوڑے، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز میں اپنی بیٹنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈی کوک 25 رنز بنا کر دلپریت باجوہ کی گیند پر بولڈ ہوئے، لیکن مارکرم نے اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی۔ انہوں نے صرف 28 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور مجموعی طور پر 59 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 10 دلکش چوکے اور ایک بلند و بالا چھکا شامل تھا۔ مارکرم کی اس اننگز نے مڈل آرڈر کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر دیا جہاں سے ایک بڑا ٹوٹل بنانا ممکن تھا۔
مڈل آرڈر کی جدوجہد اور فنشنگ ٹچ
ایک موقع پر ایسا لگا کہ انش پٹیل کی گھومتی ہوئی گیندوں نے جنوبی افریقہ کی رفتار کو لگام دے دی ہے۔ انش پٹیل نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے ایڈن مارکرم، ریان رکلٹن اور ڈیوالڈ بریوس کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جنوبی افریقہ کا اسکور 125 پر ایک وکٹ سے اچانک 138 پر 4 وکٹیں ہو گیا، لیکن یہاں سے تجربہ کار ڈیوڈ ملر اور نوجوان ٹرسٹن اسٹبس نے میدان سنبھالا۔
ان دونوں بلے بازوں نے آخری تین اوورز میں کینیڈین باؤلرز پر قیامت ڈھا دی اور مجموعی طور پر 47 رنز بٹورے۔ ملر 39 اور اسٹبس 34 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جس کی بدولت جنوبی افریقہ نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ ترتیب دیا۔ یہ اس سال کے ورلڈ کپ کا اب تک کا سب سے بڑا ٹوٹل ہے۔ اس اسکور کو دیکھ کر ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز میں اپنی بیٹنگ کو اختتام پذیر کیا ہے۔
کینیڈا کی جوابی بیٹنگ اور جنوبی افریقہ کی تباہ کن باؤلنگ
214 رنز کے تعاقب میں کینیڈا کی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ جنوبی افریقہ کے پیس اٹیک نے پاور پلے کے دوران ہی کینیڈا کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ لنگی اینگیڈی نے اپنی رفتار اور نپے تلے انداز سے کینیڈا کے ٹاپ آرڈر کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیا۔ صرف 45 رنز پر کینیڈا کی 4 اہم وکٹیں گر چکی تھیں، جس سے صاف ظاہر تھا کہ جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز میں گیند بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کینیڈا کی جانب سے صرف نونیت دھالیوال ہی وہ واحد بلے باز تھے جنہوں نے کچھ مزاحمت دکھائی۔ انہوں نے 64 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن دوسری طرف سے انہیں کسی کا ساتھ میسر نہ آ سکا۔ کینیڈا کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 156 رنز بنا سکی اور جنوبی افریقہ نے یہ میچ 57 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا۔
لنگی اینگیڈی: پلیئر آف دی میچ
لنگی اینگیڈی اس میچ کے ہیرو ثابت ہوئے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 31 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شام کی اوس نے ان کی گیند بازی میں مدد کی، جس کی وجہ سے گیند سلائیڈ ہو رہی تھی اور ان کی سلو گیندیں بلے بازوں کو چکمہ دینے میں کامیاب رہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز میں اپنی باؤلنگ یونٹ کا استعمال کیا ہے جو کسی بھی حریف کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جنوبی افریقہ کا ٹی 20 ورلڈ کپ میں مستقبل
اس فتح کے بعد جنوبی افریقہ کے حوصلے بلند ہیں۔ گزشتہ سال فائنل میں شکست کھانے والی یہ ٹیم اب زیادہ منظم اور پر اعتماد نظر آ رہی ہے۔ ایڈن مارکرم کی کپتانی میں ٹیم کے ہر کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے۔ کرکٹ پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ اسی تسلسل کو برقرار رکھتا ہے تو انہیں روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ میں جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز سے ثابت کر دیا کہ وہ ٹائٹل کے مضبوط امیدوار ہیں۔
کینیڈا کی ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا سبق تھا، خاص طور پر ان کے باؤلنگ یونٹ کے لیے جو ڈیوڈ ملر اور ٹرسٹن اسٹبس کے سامنے بے بس نظر آئے۔ اس میچ کے دوران جس طرح جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز برقرار رکھا، اس سے کینیڈا کے نوجوان کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہوگا۔
فینز کا جوش و خروش اور اسٹیڈیم کا ماحول
احمد آباد کا اسٹیڈیم شائقین سے بھرا ہوا تھا اور جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی ہر باؤنڈری پر شور مچ جاتا تھا۔ جنوبی افریقہ کی اس جیت نے ورلڈ کپ کے جوش کو دوبالا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی جنوبی افریقی ٹیم کے چرچے ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ واقعی جنوبی افریقہ نے طاقتور انداز دکھا کر سب کے دل جیت لیے ہیں۔