انڈیا کی 76 رنز کی بڑی منفی ہار، جنوبی افریقہ کے خلاف سنگین نئے سوالات
انڈیا کی 76 رنز کی بڑی شکست—سیمی فائنل کی دوڑ میں خطرے کی گھنٹی
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں ہونے والا یہ میچ صرف ایک مقابلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا دن تھا جس نے انڈین کرکٹ ٹیم کے اعتماد، حکمتِ عملی اور فیصلوں پر کئی سوال اٹھا دیے۔ جنوبی افریقہ نے اعتماد سے بھرپور کھیل پیش کیا اور انڈیا کو انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ناکامی سے دوچار کیا۔ اس شکست کے بعد انڈیا کے سیمی فائنل تک کا سفر پہلے سے کہیں زیادہ مشکل نظر آ رہا ہے۔

یہ حیران کن بات ہے کہ گروپ مرحلے میں چاروں میچ جیتنے والی ٹیم اتوار کے روز اتنی غیر یقینی اور دباؤ کا شکار دکھائی دی۔ جنوبی افریقہ کے سامنے انڈیا کی مکمل اننگز 111 رنز تک محدود رہی، جب کہ ہدف تھا 188 رنز کا۔ یہ ناکامی صرف بیٹنگ کی غلطیوں کی نہیں، بلکہ مجموعی گیم پلان کی کمزوری کی علامت تھی۔
یہاں سے کہانی شروع ہوتی ہے انڈیا کی 76 رنز کی بڑی شکست کی، جس نے پورے میچ کی شکل بدل کر رکھ دی۔
ابتدا ہی میں دباؤ—انڈیا کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی
انڈین بیٹنگ لائن نے جس طرح شروعات کی، اس نے واضح کر دیا کہ حالات قابو میں نہیں۔ اوپنر ایشان کشن بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے۔ تلک ورما بھی اگلے ہی اوور میں چلتے بنے۔ یوں دو اوورز میں دو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ اس دباؤ سے نکلنے کی کوشش میں ابھیشیک شرما نے چند اچھے شاٹس مارے، مگر وہ بھی زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔
انڈیا کے لیے یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیم کو اعتماد چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے بیٹنگ لائن مزید بکھرتی چلی گئی۔ کپتان سوریہ کمار یادیو بھی 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اور واشنگٹن سندر کی اننگز بھی زیادہ طویل نہ ہو سکی۔
میچ کے اس حصے میں انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ناکامی کے آثار صاف دکھائی دینے لگے تھے۔ تین وکٹوں کے بعد آنے والے ہر کھلاڑی پر دباؤ بڑھتا گیا، جس کے باعث شاٹس بے احتیاطی میں کھیلے گئے۔ جنوبی افریقہ کے باؤلرز بار بار لائن اور لینتھ تبدیل کرتے رہے، اور انڈین بلے باز اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔
شیوم دوبے کی کوشش، مگر حمایت نہیں ملی
اگر کسی انڈین بلے باز نے مزاحمت دکھائی تو وہ تھے شیوم دوبے۔ انہوں نے 42 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، مگر وہ بھی اکیلے کیا کر سکتے تھے؟ دوسرے سرے پر وکٹیں گرتی رہیں۔ جب کوئی کھلاڑی رک ہی نہیں رہا ہو، تو سنگل ڈبل یا پارٹنرشپ بنانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
یہاں بھی نتیجہ وہی نکلا—انڈیا کی 76 رنز کی بڑی کوششوں کے باوجود بیٹنگ لائن نہ سنبھل سکی۔
جنوبی افریقہ کی باؤلنگ—ایک منظم حملہ
مارکو جانسن نے اس میچ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے چار وکٹیں لے کر انڈین لائن اپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیشو مہاراج نے تین اہم وکٹیں حاصل کیں، خاص طور پر پانڈیا، رنکو اور ارشدیپ کی وکٹیں انڈیا کی آخری امیدیں ختم کرنے کے لیے کافی تھیں۔
جنوبی افریقہ کے باؤلرز نے نہ صرف دباؤ برقرار رکھا، بلکہ ہر اوور میں انڈیا پر نئی مشکل ڈال دی۔ یوں انڈیا کی 76 رنز کی بڑی بے بسی مزید واضح ہوتی گئی۔
جنوبی افریقہ کی اننگز—ابتدا خراب، مگر پھر دب
جنوبی افریقہ نے بیٹنگ میں بھی آغاز اچھا نہیں کیا تھا۔ ابتدائی چار اوورز میں وہ صرف 20 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جہاں انڈیا میچ پر گرفت مضبوط کر سکتا تھا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
ڈیولڈ بریوس اور ڈیوڈ ملر نے چوتھی وکٹ کی شاندار 50 رنز کی پارٹنرشپ کی۔ اسی مرحلے پر میچ کا بہاؤ بدلنے لگا۔ ملر نے 63 رنز بنائے جبکہ بریوس نے 45 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ یہ دونوں انڈین باؤلرز کو مسلسل پریشان کرتے رہے۔
16ویں اوور میں ملر نے تین چوکے اور ایک چھکا مارا، جس نے انڈیا کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ یہ لمحہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور نتیجے میں انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ممکنہ شکست کی بنیاد اسی وقت رک گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر اشتہار کی گونج—’کپ کیک‘ کا مزاق الٹا پڑ گیا
اس میچ کا نتیجہ اپنی جگہ، مگر سوشل میڈیا پر اس سے زیادہ چرچے ایک اشتہار کے ہوئے۔ اشتہار میں انڈیا اور جنوبی افریقہ کے ڈمی کھلاڑی ایک کپ کیک کے لیے مذاق کرتے دکھائے گئے۔ انڈین کھلاڑی نے بڑے اعتماد سے کہا کہ:
“سپر 8 میچ تو ہم ہی جیتیں گے، کپ کیک آپ رکھ لو!”
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ہار نے اس پورے اشتہار کو مذاق بنا دیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے خوب طنز کیے اور کہا کہ کپ کیک تو کیا، میچ بھی ہاتھ سے چلا گیا۔
سیمی فائنل کی دوڑ—اب معاملہ مشکل ہے
اس شکست کے بعد انڈیا کے پاس غلطیوں کی گنجائش کم رہ گئی ہے۔ اگلے میچوں میں معمولی سی کمی بھی سیمی فائنل کا راستہ بند کر سکتی ہے۔ ٹیم کو نہ صرف بیٹنگ لائن کو مضبوط کرنا ہوگا، بلکہ باؤلنگ میں بھی تسلسل لانا ہوگا۔
اس وقت ہر شائق یہی کہہ رہا ہے کہ انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ہار نے ان کی اصل مشکلات واضح کر دی ہیں۔
میچ کا مجموعی نتیجہ—سبق بہت، وقت کم
یہ میچ انڈیا کے لیے صرف ایک شکست نہیں، بلکہ ایک بڑا سبق بھی تھا۔ عالمی ٹورنامنٹ میں صرف اعتماد کافی نہیں ہوتا؛ وہاں مستقل کارکردگی اور درست فیصلے سب سے اہم ہوتے ہیں۔
اب ٹیم انڈیا کو اگلے میچوں میں وہ غلطیاں نہیں دہرانے کی ضرورت ہے جنہوں نے انڈیا کی 76 رنز کی بڑی ناکامی کی صورت نکالی۔