You are currently viewing امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے?
امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے?

  • Post author:
  • Post category:Urdu
  • Post comments:0 Comments

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟

بگرام ایئر بیس ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست میں بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا کہ امریکہ دوبارہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے۔ اس اعلان نے نہ صرف طالبان حکومت کو ناراض کیا بلکہ چین نے بھی اس پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

اس بلاگ میں ہم دیکھیں گے کہ امریکہ بگرام ایئر بیس کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے، طالبان کا ردعمل کیا ہے، چین کیوں فکر مند ہے اور اس صورتحال کے خطے پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں
امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں

بگرام ایئر بیس کیا ہے اور اس کی اہمیت کیوں ہے؟

بگرام ایئر بیس افغانستان کے صوبہ پروان میں، کابل کے شمال میں واقع ہے۔ یہ امریکہ کے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک تھا جسے نیٹو اور امریکی افواج نے افغانستان میں جنگی کارروائیوں کے دوران استعمال کیا۔

  • اس کے پاس انتہائی مضبوط اور لمبا رن وے موجود تھا جو بھاری بمبار اور جدید طیاروں کو سہولت فراہم کرتا تھا۔

  • یہ بیس جدید سیکیورٹی انفراسٹرکچر اور اونچی دیواروں سے گھرا ہوا تھا۔

  • 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران امریکہ نے یہ اڈہ خالی کر دیا تھا۔

یہ بیس صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔


امریکہ بگرام ایئر بیس دوبارہ کیوں چاہتا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی پالیسی سازوں کے مطابق بگرام بیس چھوڑ دینا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس کی تین بڑی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں:

1. جغرافیائی محلِ وقوع

بگرام ایئر بیس چین کے مغربی علاقوں کے قریب واقع ہے جہاں حساس فوجی اور جوہری سہولیات موجود ہیں۔ اس بیس سے امریکہ چین کی سرگرمیوں پر براہِ راست نظر رکھ سکتا ہے۔

2. چین کا مقابلہ

ٹرمپ کے مطابق بگرام کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ چین کے مشہور لوپ نور ایٹمی تجربہ گاہ کے نسبتاً قریب ہے۔ امریکہ کے لیے یہ بیس چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ایک تاکتی قدم بن سکتا ہے۔

3. علاقائی اثر و رسوخ

یہ بیس نہ صرف چین بلکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔


  :طالبان کا سخت ردعمل

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟

طالبان حکومت نے امریکہ کے اس ارادے کو فوراً مسترد کر دیا۔

  • طالبان کے نمائندے سہیل شاہین نے کہا کہ اگر امریکہ افغانستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات چاہتا ہے تو ہم خوش آمدید کہیں گے۔

  • لیکن اگر مقصد فوجی موجودگی یا لالچ پر مبنی عزائم ہیں تو امریکہ کو افغانستان کی تاریخ یاد رکھنی چاہیے، جہاں ہر غیر ملکی قوت کو شکست ہوئی ہے۔

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے افغان حکام کے مطابق دوحہ معاہدے میں واضح طور پر طے ہوا تھا کہ امریکہ افغانستان میں کسی قسم کی فوجی موجودگی برقرار نہیں رکھے گا۔


چین کیوں تشویش میں ہے؟

چین نے بھی امریکہ کے اس اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں:

1. جوہری تنصیبات کے قریب ہونا

چین کا لوپ نور ایٹمی مقام بگرام بیس سے تقریباً 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بظاہر یہ فاصلہ زیادہ لگتا ہے لیکن جدید جاسوس طیارے جیسے SR-71 بلیک برڈ یہ سفر صرف ایک گھنٹے میں طے کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ چین کی جوہری سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھ سکتا ہے۔

2. گھیراؤ کا خدشہ

چین پہلے ہی جاپان، جنوبی کوریا، گوام اور بحرِ ہند میں امریکی اڈوں سے گھرا ہوا ہے۔ اگر امریکہ دوبارہ افغانستان میں بیس قائم کرتا ہے تو چین کے لیے یہ مزید اسٹریٹجک دباؤ ہوگا۔

3. علاقائی استحکام پر اثرات

چین نے افغانستان اور پڑوسی ممالک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت۔ امریکہ کی واپسی ان منصوبوں کو متاثر کر  امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟ سکتی ہے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں تناؤ اور تصادم بڑھائیں گے، جو عوامی امنگوں کے خلاف ہیں۔

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں
امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟

امریکہ، طالبان اور چین کا طاقت کا مثلث

بگرام ایئر بیس کا معاملہ ایک نئے طاقتی مثلث کو سامنے لاتا ہے:

  • امریکہ: چین کے اثر کو محدود کرنے اور اسٹریٹجک برتری حاصل کرنے کا خواہاں۔

  • طالبان: افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔

  • چین: اپنے ایٹمی پروگرام اور خطے میں سرمایہ کاری کو امریکی دباؤ سے بچانا چاہتا ہے۔


ماہرین کی رائے

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق امریکہ کی دلچسپی افغانستان سے زیادہ چین کے خلاف حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

  • جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کی پروفیسر ریشما قاضی کے مطابق بگرام بیس امریکہ کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ چین پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

  • کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بیانات سیاست پر مبنی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنی وسطی ایشیا میں پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔


ممکنہ اثرات

اگر امریکہ واقعی بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے کئی نتائج ہو سکتے ہیں:

  1. طالبان کے ساتھ تصادم: دوبارہ امریکی موجودگی افغانستان میں نئی بغاوت اور جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔

  2. امریکہ-چین تعلقات میں تناؤ: بیجنگ ممکنہ طور پر فوجی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے اس کا جواب دے گا۔

  3. علاقائی ممالک پر اثر: پاکستان، ایران اور روس جیسے ہمسایہ ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہوں گے۔


نتیجہ

بگرام ایئر بیس کی بحث صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ یہ امریکہ اور چین کی عالمی طاقت کی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔

  • امریکہ کے لیے یہ بیس چین کے خلاف ایک اسٹریٹجک ہتھیار ہے۔

  • طالبان کے لیے یہ ان کی آزادی اور خودمختاری کا امتحان ہے۔

  • اور چین کے لیے یہ ایک سکیورٹی خطرہ ہے جو اس کی جوہری سرگرمیوں اور علاقائی منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکہ عملی طور پر بگرام واپس لے پاتا ہے یا نہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے: یہ فوجی اڈہ عالمی سیاست کا نیا فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور چین کو اس پر تشویش کیوں ہے؟

Leave a Reply